بدھ، 18 مارچ، 2026

(غسل کرتے وقت ناک سے دماغ میں پانی گیاتو روزہ ہوا)

(غسل کرتے وقت ناک سے دماغ میں پانی گیاتو روزہ ہوا)

الاستفتاء:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ روزے کی حالت میں غسل کرتے وقت ناک کے ذریعے پانی دماغ تک پہنچ جائے تو روزے کا کیا حکم ہوگا روزہ ہوگا یا نہیں؟ جواب عنایت فرمائیں۔

(سائل: محمد یحیٰ انصاری، انڈیا)

باسمه تعالیٰ وتقدس الجواب: اگر روزہ ہونا یاد ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا، ورنہ نہیں۔ اور ٹوٹنے کی صورت میں صرف قضا لازم ہوگی، کفّارہ نہیں۔ چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی ۱۰۹۲ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت نے لکھا ہے: وإن تمضمض أو استنشق فدخل الماء جوفه إن كان ذاكرا لصومه فسد صومه وعليه القضاء، وإن لم يكن ذاكرا لا يفسد صومه كذا في الخلاصة وعليه الاعتماد. (الفتاوی الھندیۃ، ۱/۲۰۲)

یعنی، اگر کسی شخص نے کلّی کی یا ناک میں پانی چڑھایا اور پانی اس کے جوف تک پہنچ گیا تو اگر اسے روزہ یاد تھا تو اس کا روزہ فاسد ہوجائے گا اور اس پر قضا لازم ہوگی، اور اگر اسے روزہ یاد نہ تھا تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا اسی طرح ’’خلاصہ‘‘ میں ہے اور اسی پر اعتماد ہے۔والله تعالیٰ أعلم بالصواب

کتبہ: محمد اُسامہ قادری

پیر،۲۶/رمضان، ۱۴۴۷ھ۔۱۶/مارچ، ۲۰۲۶م

ایک تبصرہ شائع کریں

Whatsapp Button works on Mobile Device only